Bazyaft, Vol 24, No 45 (2024)

Font Size:  Small  Medium  Large

Urdu Ethics Literature in Colonial India Akhlāq in the Vernacular

Muhammad Irfan Haider

Abstract


Akhlaq is a classical genre of Islamic literature that focuses on ethical conduct and self-cultivation. The article argues that Urdu akhlaq literature offers a fresh perspective on the history of Islam in colonial India by highlighting a popular and non-institutional form of Islamic knowledge production. Traditionally, studies of Islamic thought in colonial India have focused on elite figures and institutions. Urdu akhlaq literature, produced for a literate but not necessarily elite audience, provides insights into popular Muslim concerns during this period. Urdu akhlaq texts demonstrate the adaptability of the akhlaq genre. While drawing on its Islamic philosophical heritage, these texts also incorporate knowledge from diverse sources, including Greek philosophy, Hinduism, and even European thinkers.This inclusion suggests that Islamic and colonial knowledge production were not separate entities in late-colonial India. Rather, they interacted and influenced each other within the context of popular print culture. Translation of this article in Urdu can lead to familiarity with a new perspective. The translator has added numerous footnotes and annotations. 

References


1. Oxford Encyclopedia of the Islamic World. 1995. Edited by John L. Esposito.  Oxford: Oxford University Press. 2. Encyclopedia of Islam, (Second Edition). 1960–2007. Edited by P. Bearman et al. Leiden: Brill.     3. اس مقالے میں کچھ مواد، میرے پہلے شائع شدہ طویل مضمون Urdu Ethics Literature and Diversity of Muslim Thought in Colonial India، مشمولہ American Historial Reveiw، جلد ۱۲۹، شمارہ ۳(۲۰۲۲ء) سے شامل کیا گیا ہے۔4. لغوی اعتبار سے لفظ اخلاق، خُلق اور خُلُق کا جمع ہے۔ راغب اصفہانی کے بقول: خَلق اور خُلُق، شَرب اور شُرب اور صَرم اور صُرم کی مثل حقیقت میں ایک ہیں۔ تاہم، خَلق آنکھوں سے نظر آنے والی کیفیات، اشکال اور صورتوں سے مخصوص ہے، جبکہ خُلق ان قوتوں اور فطری امور سے متعلق ہے جو چشم بصیرت سے درک ہوتے ہیں۔ المختصر، یہ دونوں بالترتیب ظاہری و باطنی خصائص و اطوار پر دال ہیں۔ لفظ خُلُق (دو ضمتہ کے ساتھ) پیدائشی خصوصیت کے معانی میں بھی آیا ہے(مصباح المنیر، معجم مقاییس اللغتہ)۔اہل لغت کے بیانات کی مناسبت سے علمائے اخلاق نے بھی لفظ 'خُلق' کے معانی متعین کرنے کی سعی کی ہے۔ ابن مسکویه کے نزدیک: 'خُلق، نفس کی وہ حالت ہےجو انسان کو اپنے افعال کی طرف بغیر سوچے سمجھے انگیخت کرتی ہے'۔ مرحوم فیض کاشانی کا نظریہ بھی اسی سے ملتا جلتا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس کے ساتھ 'دائمی' کی شرط کا اضافہ کیا ہے۔ دائمی کی شرط اہم ہے۔ یہ اطوار و کیفیات کی پختگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اخلاق اسلامی فلسفے میں باقاعدہ ایک علم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے حکمتِ عملی سے بھی معنون کیا جاتا ہے۔ اصطلاحی اعتبار سے علم الاخلاق، بقول ابن مسکویه، اُن خلقیات اور صفات کا علم ہے جو انسان کے تمام اعمال میں حسن پیدا کرتی ہیں اور انسان سے سہولت کے ساتھ ان کے انجام پانے کا سبب بنتی ہیں۔ محقق طوسی کے مطابق: علم الاخلاق وہ علم ہے جس میں یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ نفس انسانی کس طرح کی خلقیات اور صفات کو حاصل کر سکتا ہے؟ جن کے بموجب اس کے تمام احوال اور افعال جو اس کے اختیار میں ہیں، پسندیدہ اور ممدوح ہوں۔ مزید تفصیلات کے لیے رجوع کریں:• ابن مسکویه ، تہذیب الاخلاق و تطہیر الاعراق (بیروت: دار المکتبہ الحیات، ۱۹۶۱ء)۔• نصیر الدین طوسی، اخلاق ناصری، تصحیح و ترتیب: مجتبی مینوی و علی رضا حیدری(تہران: انتشارات خوارزمی، ۱۳۵۶ھ)۔• سید محمد رضا مدرسی، اساس اخلاق ، مترجم: سید محمد علی موسوی( اسلام آباد: موسسہ الفارابی، س ن)۔ (مترجم)5. Oxford Dictionary of Islam. 2003. Edited by John L. Esposito.  Oxford: Oxford University Press.6. ابوعلی محمد بن احمد بن یعقوب مسکویه الرازی(۹۳۲ء- ۱۰۳۰ء) ایران میں پیدا ہوئے۔ معتبر ماہر اخلاق، فلسفی، حکیم اور مورخ کے طور پر شناخت رکھتے ہیں۔ علم اخلاق پر عربی زبان میں ان کی مشہور تصنیف 'تہذیب الاخلاق و تطہیر الاعراق' ہے۔ علاوہ ازایں، الفوز الکبیر، کتاب تجارب الامم، کتاب الحکمته الخالدہ اور کتاب آداب العرب و الفرس اہم تصانیف ہیں۔ (مترجم)7. Miskawayh, Ahmad Ibn. 1968. The Refinement of Character: A Translation from the Arabic of Ahmad Ibn- Muhammad Miskawayh’s “Tahdhīb al-Akhlāq.” Translated by Constantine K. Zurayk. Beirut: American University of Beirut.Leaman, Oliver. 1996. “Ibn Miskawayh.” In History of Islamic Philosophy, Part I, edited by Seyyed Hossein Nasr and Oliver Leaman, 252–57. New York: Routledge.8.Encyclopedia of Islam, (THREE). 2007–2023. Edited by Kate Fleet et al. Leiden: Brill.9.Encyclopedia of Islam, (Second Edition). 1960–2007. Edited by P. Bearman et al. Leiden: Brill..10. Oxford Dictionary of Islam. 2003. Edited by John L. Esposito. Oxford: Oxford University Press. 11. ابوجعفر محمد بن محمد بن حسن الطوسی[معروف بہ: خواجہ نصیر الدین طوسی، محقق طوسی(۱۲۰۱ء-۱۲۷۴ء)] مشہور ایرانی محقق، فلسفی، شاعر، ریاضی دان، ماہر اخلاق اور متکلم۔ عربی اور فارسی میں خواجہ طوسی کے آثار کی تعداد ڈیڑھ سو کے لگ بھگ بتائی گئی ہے۔ علم اخلاق پر ان کی مشہور کتاب اخلاقِ ناصری ہے۔ علاوہ ازایں، ان کی چند معروف کتب: تجرید الاعتقاد، شرح اشارات بو علی سینا، اوصاف الاشراف، تحریر اقلیدس، تجرید المنطق، تجرید الھندسہ، علم المثلث، شرح اصول کافی، آداب التعلمین، رسالہ در کلیات طب، اختیارات نجوم، اثبات جوھر، الاعتقادات وغیرہ ہیں۔ (مترجم)12. Dabashi, Hamid. 1996. “Khwajah Nasir al- Din al- Tusi: The Philosopher/Vizier and the Intellectual Climate of His Times.” In History of Islamic Philosophy, Part I, edited by Seyyed Hossein Nasr and Oliver Leaman, 527–84. New York: Routledge.13. انگریری اصطلاح 'Mirror for Princes' لاطینی اصطلاح Specuum Principle کا ہم معنی متبادل ہے۔ ماضی میں اسے باقاعدہ ایک صنف(Genre) کی شناخت حاصل رہی ہے۔ مشرق میں اس کے لیے آداب الملوک، اخلاق الملوک، سیار الملوک، نصحیتہ الملوک، پند نامہ، نصحیت نامہ جیسی اصطلاحات مستعمل رہی ہیں۔ اسے 'مشاوراتی ادب' بھی کہا جاتا ہے۔اس سے مراد ایسا متن ہے جس میں کسی حکمران، یا آنے والے حکمران کو شاہی طاقت و اختیار کے بہتر استعمال اور سیاسی امور میں فلاح و کامیابی کے متعلق مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس صنف نے مختلف زرعی، ماقبل جدید مسلم اور عیسائی سماجوں میں ایک ہزار سال تک ارتقاء کیا۔ جہاں اسے سیاسی فکر کے اظہار کا ایک اہم وسیلہ گردانا جاتا تھا۔ ان نصحیت ناموں نے ایک سیاسی ثقافت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، جسے قرون وسطی کے مسلم اور عیسائی حکمرانوں کے درباری حلقوں میں یکساں طور پر مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ عربی، فارسی اور ترکی نصحیت ناموں میں، خاص طور پر، سیاسی مسائل کا حل تجویز کرنے کا رجحان موجود ہے۔ ان میں سیاسی جواز کے ذرائع و علامات، حکمرانوں کی طاقت اور اپنی حکومت میں عوام کے تئیں ان کی ذمہ داریاں اور اس کی حدود و قیود پر بحث ہوتی۔ مزید یہ کہ ان میں عوام کے فرائض، اطاعت کی حدود، انصاف و قانون، طاقت کا جائر و ناجائز استعمال، سرکاری دفاتر کے امور، متنوع سماجی گروہوں کی حیثیت اور حدود مشخص کی جاتیں۔ ان متون میں کئی دیگر سیاسی و سماجی مسائل کی نشاندہی کا رجحان عام تھا۔ فنی حوالے سے دیکھیں، تو اس صنف کے متون نظم و نثر ہر دو ہئیتوں میں لکھے گئے ہیں، جس میں مختصر جملوں، بھاری بھرکم نثری متون سے لے کر کہانیوں کے مجموعے اور طویل رزمیہ نظمیں شامل ہیں۔ عربی میں اس صنف کی ابتدائی تشکیل میں معاون متون میں کلیلہ و دمنہ جیسی کتب بھی شامل ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:Marlow, L(ed). (2023). Medieval Muslim Mirror for Princes: An anthology of Arabic, Persian and Turkish Polical Advice. Cambridge: Cambridge University Press.Noelle- Laetitia Perret and Stephane Pequignot, (eds). (2023). A Critical Companion to the 'Mirror for Princes' literature. Leidan: Brill. (مترجم)14. Alam, Muzafar. 2003. The Languages of Political Islam: India 1200–1800, 61. London: C. Hurst. 15. Alam, Muzafar. 2000. “Akhlaqi Norms and Mughal Governance.” In The Making of Indo- Persian Culture: Indian and French Studies, edited by Muzafar Alam, Francoise Delvoye, and Marc Gaborieau, 67–95. New Delhi: Manohar.Alam, Muzafar. 2003. The Languages of Political Islam: India 1200–1800. London: C. Hurst. 16. Khan, Iqtidar Alam. 2009. “Tracing Sources of Principles of Mughal Governance: A Critique of Recent Historiography.” Social Scientist 37 (5/6): 52.17. برصغیر پاک و ہند اور دوسرے مقامات پر خطی ذخائر میں اخلاق ناصری کے متعدد فارسی نسخے موجود ہیں، جو ہندوستان میں تیار کیے گئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اخلاق ناصری کے مخطوطات کے ساتھ ساتھ، اس کی تشریحات/ تفاسیر اور فرہنگیں بھی ہندوستان میں گردش کرتی رہیں۔ مثال کے طور پر یہ حوالے ملاحضہ کریں:* مخطوطہ نمبر ۹۴۰، شرح اخلاق ناصری ، اور* مخطوطہ نمبر ۹۴۱، حدیقته اللقات جسے اخلاق ناصری کی فرہنگ بتایا گیا ہے۔ دیکھیے:Muqtadir, Maulavi Abdul. 1925. Catalogue of the Arabic and Persian Manuscripts in the Oriental Library at Bankipore. Vol.9. Patna: Superintendent, Government Printing, Bihar and Orissa.یہ دونوں نسخے انیسویں صدی میں تیار کیے گئے تھے۔18. Mir, Farina. 2006. “Imperial Policy, Provincial Practices: Colonial Language Policy in Nineteenth-Century India.” Indian Economic and Social History Review 43 (4): 395–427.19. Faruqi, Shamsur Rahman. 2003. “A Long History of Urdu Literary Culture, Part I: Naming and Placing a Literary Culture.” In Literary Cultures in History: Reconstructions from South Asia, edited by Sheldon Pollock, 805–63. Berkeley: University of California Press.20. Green, Nile. 2005. “Making a ‘Muslim’ Saint: Writing Customary Religion in an Indian Princely State.” Comparative Studies of South Asia, Africa, and the  Middle East 25 (3): 617–33.Ingram, Bannon. 2013. “The Portable Madrasa: Print, Publics, and the Authority of the Deobandi Ulama.” Modern Asian Studies 48 (4): 845–71.Jones, Kenneth. 1990. Socio- religious Reform Movements in British India. Cambridge: Cambridge University Press.Metcalf, Barbara. 1982. Islamic Revival in British India: Deoband, 1860–1900. Princeton, NJ: Princeton University Press.Metcalf, Barbara. 2002. Perfecting Women: Maulana Ashraf Ali Thanawi’s Bihishti Zewar. Berkeley: University of California Press. Robinson, Francis. 1993. “Technology and Religious Change: Islam and the Impact of Print.” Modern Asian Studies 27 (1): 229–51.21. Reetz, Dietrich, ed. 2006. Islam in the Public Sphere: Religious Groups in India, 1900-1947. New York: Oxford University Press.22. سستی اشاعت(Cheap Print) پاپولر کلچر کی ایک جدید اصطلاح ہے، جو عام طور پر ایک یا دو صفحات پر مشتمل کم قیمت اور پڑھنے میں آسان اشاعتوں کے لیے مستعمل ہے۔ تاہم، ماقبل جدید یورپ میں اشاعتی شعبے کی انقلابی تبدیلیوں کے بعد، کتب کی عوامی حلقوں تک رسائی کے لیے انھیں سستا اور وسیع پیمانے پر شائع کیا جاتا۔ ایک طرف یہ اشاعتیں لاطینی اور انگریزی کے طویل متون مثلاً Mr. Wiliam Shakespeares Comodies, Histories & Tragedies(1623) کو شامل تھیں۔ دوسری طرف، یک صفحاتی تحریریں، جو چھاپہ خانوں سے لاکھوں کی تعداد میں طبع ہوتیں اور کتابوں کے زمرے سے خارج ہیں، سستی اشاعت کے ذیل میں آتی تھیں۔ مثلاً اشتہارات، بروشرز وغیرہ، محققین نے انھیں بھی سستی اشاعت کے زمرے میں شمار کیا ہے۔ تاریخی اعتبار سے ان اشاعتوں کو مذہبی اور سیکولر ہر دو مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا۔(مترجم) 23. Raymond, Joad. 2011. “Introduction.” In The Oxford History of Popu lar Print Culture. Vol. 1, Cheap Print in Britain and Ireland to 1660, edited by Joad Raymond, 1–14. Oxford: Oxford University Press. 24. دیسی و مقامی کتب کی تجارت کی بابت درج ذیل (مصادر) ملاحضہ کریں۔‌• بنگالی کے لیے:Ghosh, Anindita. 2006. Power in Print: Popular Publishing and the Politics of Language and Culture in a Colonial Society, 1778–1905. New Delhi: Oxford University Press.• ہندی اور اردو کے لیے:Stark, Ulrike. 2007. An Empire of Books: The Naval Kishore Press and the Diffusion of the Printed Word in Colonial India. Ranikhet: Permanent Black.• پنجابی کے لیے:Mir, Farina. 2010. The Social Space of Language: Vernacular Culture in British Colonial Punjab. Berkeley: University of California Press.•‌‌ تامل کے لیے:Venkatachalapathy, A. R. 2012. The Province of the Book: Scholars, Scribes and Scribblers in Colonial Tamilnadu. Ranikhet: Permanent Black. Blackburn, Stuart. 2003. Print, Folklore, and Nationalism in Colonial South India. Delhi: Permanent Black.• کمرشل کتب فروشی پر مزید معلومات کے لیے دیکھیے۔Orsini, Francesca. 2009. Print and Pleasure: Popular Literature and Entertaining Fictions in Colonial North India. Ranikhet: Permanent Back.25. Samadani, Aziz. 1894. Aziz al Aafaq fi Masail al Akhlaq. Allahabad: Namoor Press.26. Sarwar, Mufti Ghulam. 1871. Akhlaq-i Sarwari. Lahore: Koh-i-Nur.27. اخلاقِ محسنی کے لیے ملاحضہ کریں:Subtelny, Maria. 2003. “A Late Medieval Persian Summa on Ethics: Kashifi’s Akhlāq-i Muhsinī.” Iranian Studies 36 (4): 601–14.28. Orsini, Francesca. (ed). 2013. “Introduction.” In The History of the Book in South Asia, edited by Francesca Orsini, xi– xxxix. Burlington, VT: Ashgate.29. ٹائپ سیٹ طباعت (Typeset printing) عملی طباعت کی ایک قسم ہے، اور کمپیوٹر کی ایجاد سے پہلے مستعمل رہی ہے۔ ٹائپ سیٹ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ہاتھ سے تیار کی جاتی، مخطوطے کو قریب قریب حتمی مصنوع میں بدل دیتی تھی۔ اس میں حرکت پذیر حروف، اعداد اور علامات کو ہاتھ کے استعمال سے صفحے پر مقرر و منتقل کیا جاتا، جس سے صفحات حتمی طباعت کے لیے تیار ہو جاتے۔ (مترجم)30. Shaw, Graham. 2013. “Calcutta: Birthplace of the Indian Lithographed Book.” In The History of the Book in South Asia, edited by Francesca Orsini, 159–81. Burlington, VT: Ashgate.31. Shaw, Graham. 2013. “Calcutta: Birthplace of the Indian Lithographed Book.” In The History of the Book in South Asia, edited by Francesca Orsini, 159–81. Burlington, VT: Ashgate.32. ہم اب بھی اردو اشاعتی کلچر کے ایک جامع مطالعے کے منتظر ہیں، جس کا موازنہ فرانچسکا اورسینی (The Hindi Public Sphere1920- 1940: Language and Literature in the Age of Natiinalism) کے ہندی پر شاندار کام سے کیا جا سکے۔ سٹارک (An Empire of Books: The Naval Kishore Press and the Duffusion o the Printed Word in Colonial India) اور ڈبرو (Cosmopolitan Dreams: The making of  Modern Urdu Literary Culture in Colonial South Asia)  اردو اشاعتی کلچر کی وسیع تر کہانی کی اہم تواریخ فراہم کرتے ہیں۔33.  ۱۸۶۷ء میں نوآبادیاتی ریاست نے ہندوستان میں اشاعت کی نگرانی شروع کی اور صوبہ وار اشاعتی سرگرمیوں پر سہ ماہی رپورٹیں تیار کرنا شروع کیں۔ حتی اگر زیادہ تر مطبوعہ متون باقی نہ بھی رہے ہوں، پھر بھی یہ سہ ماہی رپورٹیں ہندوستان میں اشاعتی کلچر کا ایک واضح منظرنامہ فراہم کرتی ہیں۔ دیکھیے:Darnton, Robert. 2001. “Literary Surveillance in the British Raj: The Contradictions of Liberal Imperialism.” Book History 4 (1): 133–76.Darnton, Robert.  2002. Book Production in British India, 1850–1900.” Book History 5 (1): 239– 62.]• اردو ادب، اخبارات اور بالخصوص اردو ناول کی پیداوار اور اشاعت پر استعماری نگرانی و سنسر شپ کی تفصیل کے لیے محمد نعیم کی مندرجہ ذیل کتاب کا باب دوم ملاحضہ کریں:• محمد نعیم، اردو ناول اور استعماریت(لاہور، کتاب محل، ۲۰۱۷ء)۔ (مترجم)[34. کمال الدین حسین بن علی واعظ کاشفی (۱۴۶۱ء-۱۵۰۵ء) معروف بہ ملا حسین واعظ کاشفی، مشہور ایرانی فقہیہ، محدث، ادیب اور ماہر اخلاق۔ ان اختصاصات کے علاوہ آپ ایک توانا خطیب، واعظ اور شعر و ادب پر زبردست دسترس رکھتے تھے۔ علم اخلاق کے موضوع پر ان کی معروف تصنیف اخلاقِ محسنی ہے۔ اس کے علاوہ چند اہم کتب یہ ہے: جواھر التفسیر، انوار سہیلی، لب لباب مثنوی، روضتہ الشہداء، مطلع الانوار وغیرہ۔(مترجم)35. جلال الدین دوانی(۱۵۰۲ء- ۱۴۲۶ء) ایرانی فلسفی، ریاضی دان، شاعر، فقہیہ اور ماہر اخلاق۔ شیراز کے قریب ایک قصبے دوان میں متولد ہوئے۔ کاشفی اور جامی کے ہم عصر تھے۔ آپ کی حکمت و فلسفہ، فقہ و اصول، منطق ، ادبیات، ھندسہ و ریاضی جیسے علوم میں کئی تصانیف یادگار ہیں، چند ایک کے نام: رسالہ در دیوان مظالم، لوامع الاشراق، مکارم الاخلاق(اخلاق جلالی)، رسالہ در عدالت ، رسالہ عرض لشکر وغیرہ۔ (مترجم)36. برٹش لائبریری، اورینٹل اینڈ انڈیا آفس کلیکشن،  VT 13437. لائبریری آف کانگرس، MLCSA 94/2497 (B) So Asia Cage38.  اخلاق ِجلالی[۱۸۷۲ء (۱۲۹۲_ ہجری اسلامی تقویم)][۱۸۷۵ء- ۱۸۷۶ء]، مطبوعہ کانپور، برٹش لائبریری اورینٹل اینڈ انڈیا آفس کلیکشن، VT 844 ; اکسیر اعظم (جس میں طوسی اور دوانی کی تحریروں کے منتخب حصے ہیں) مطبوعہ لاہور، برٹش لائبریری اورینٹل اینڈ انڈیا آفس کلیکشن، VT 63739.  جرائد سے قطع نظر، کتابوں کی اشاعت پر تمرکز کا میرا فیصلہ اس سچائی کے تحت تاثیر ہے کہ کتب کے سابقہ نوآبادیاتی اشاعتی عمل کے لیے، رسائل و جرائد سے مختلف تجزیاتی تناظر کی ضرورت ہوتی ہے۔ کتابوں کی اشاعت عموماً ایک تجارتی منصوبہ تھا، جب کہ رسائل و جرائد یا تو تنظیموں/ اداروں سے منسلک تھے یا انھیں نوآبادیاتی ریاست کی سرپرستی حاصل تھی۔ اپنی بحث کو مطبوعہ کتب تک محدود رکھنے کا ایک ماحصل یہ ہے کہ میں یہاں نوآبادیاتی دور کی سب سے مشہور مروجِ اخلاق اشاعت سید احمد خان کے رسالے، تہذیب الاخلاق کو زیرِ غور نہیں لاوں گی۔40.  ۱۸۷۲ء اور ۱۸۷۵ء میں بالترتیب کوہ نور پریس لاہور اور محمدی پریس لاہور نے شائع کیا۔41.  شمس العلماء مولوی ذکاءاللہ (۱۸۳۲ء- ۱۹۱۰ء)  کا تعلق دہلی سے تھا۔ مختلف سائنسی علوم اور ریاضیات کے علاوہ لسانیات، علم تاریخ اور اخلاق میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ دہلی کالج میں ریاضی کے استاد کی حیثیت سے وابستہ رہے۔ مزید یہ کہ سر سید احمد خان کی علی گڑھ تحریک کے متحرک رکن تھے اور 'تہذیب الاخلاق' میں کے لیے کئی مضامین تحریر کیے۔ ریاضیات پر ۸۱ کتب کے علاوہ آپ کے معروف علمی آثار میں: سلطنت ہندوستان(دو جلدیں)، سوانح سمیع اللہ، تاریخ اسلام، آئین قیصری(تین جلدیں)، فرہنگ فرنگ، تاریخ ہندوستان(دس جلدیں) شامل ہیں۔ (مترجم)42. Hasan, Mushirul. 2008. A Moral Reckoning: Muslim Intellectuals in Nineteenth- Century Delhi. Delhi: Oxford University Press.Pernau, Margrit. 2011. “Teaching Emotions: The Encounter between Victorian Values and Indo- Persian Concepts of Civility in Nineteenth- Century Delhi.” In Knowledge Production, Pedagogy, and Institutions in Colonial India, edited by Indra Sengupta and Daud Ali, 227–47. New York: Palgrave Macmillan.43.   سرورق کی عبارت اور بعدازاں، اِس مضمون میں کتاب کے متن سے حوالہ دیے گئے مختصر اقوال کا انگریزی سے اردو ترجمہ نہیں کیا گیا۔ اس کی بجائے انھیں اصل اردو کتاب(محبوب الاخلاق) سے بلاواسطہ نقل کیا گیا ہے۔ (مترجم)44. Babayan, Kathryn. 2021. The City as Anthology: Eroticism and Urbanity in Early Modern Isfahan. Stanford, CA: Stanford University Press.45. Farooq, Syed Muhammad. 1910. Mehboob al-Akhlaq, 10. Lahore: Khadim-ul Talim Steam Press.46. Farooq, Syed Muhammad. 1910. Mehboob al-Akhlaq, 3-20, 23-28. Lahore: Khadim-ul Talim Steam Press.47. Farooq, Syed Muhammad. 1910. Mehboob al-Akhlaq, 4. Lahore: Khadim-ul Talim Steam Press.48. Farooq, Syed Muhammad. 1910. Mehboob al-Akhlaq, 7, 19. Lahore: Khadim-ul Talim Steam Press.49. Farooq, Syed Muhammad. 1910. Mehboob al-Akhlaq, 27. Lahore: Khadim-ul Talim Steam Press.50. Farooq, Syed Muhammad. 1910. Mehboob al-Akhlaq, 20- 23.  Lahore: Khadim-ul Talim Steam Press.51. Farooq, Syed Muhammad. 1910. Mehboob al-Akhlaq, 22. Lahore: Khadim-ul Talim Steam Press.52. Farooq, Syed Muhammad. 1910. Mehboob al-Akhlaq, 23- 33. Lahore: Khadim-ul Talim Steam Press.53. Farooq, Syed Muhammad. 1910. Mehboob al-Akhlaq, 34- 63. Lahore: Khadim-ul Talim Steam Press. 54. Farooq, Syed Muhammad. 1910. Mehboob al-Akhlaq, 63- 82. Lahore: Khadim-ul Talim Steam Press.55. Farooq, Syed Muhammad. 1910. Mehboob al-Akhlaq, 63. Lahore: Khadim-ul Talim Steam Press.56. Farooq, Syed Muhammad. 1910. Mehboob al-Akhlaq, 64. Lahore: Khadim-ul Talim Steam Press.57. Farooq, Syed Muhammad. 1910. Mehboob al-Akhlaq, 66. Lahore: Khadim-ul Talim Steam Press.58. Farooq, Syed Muhammad. 1910. Mehboob al-Akhlaq, 71. Lahore: Khadim-ul Talim Steam Press.59. Farooq, Syed Muhammad. 1910. Mehboob al-Akhlaq, 1. Lahore: Khadim-ul Talim Steam Press.60. Farooq, Syed Muhammad. 1910. Mehboob al-Akhlaq, 2. Lahore: Khadim-ul Talim Steam Press.


Full Text: PDF

Refbacks

  • There are currently no refbacks.